ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پاکستان کے دورے پر جا سکتے ہیں وزیر اعظم نریندر مودی

پاکستان کے دورے پر جا سکتے ہیں وزیر اعظم نریندر مودی

Wed, 07 Sep 2016 11:52:47    S.O. News Service

نئی دہلی6؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)وزیر اعظم نریندر مودی نومبر میں پاکستان میں ہونے والی سارک کانفرنس میں حصہ لینے جا سکتے ہیں۔ منگل کو بھارتی ہائی کمشنرگوتم بمباوالے کی پوسٹ تبصرے سے یہ معلومات ملی ہیں۔این ڈی ٹی وی کے مطابق یہ پوچھے جانے پر کہ کیا مودی نومبر میں سارک سربراہی کانفرنس میں شامل ہونے کیلئے پاکستان کا دورہ کریں گے، گوتم بمباوالے نے کہاکہ وزیر اعظم سارک سربراہی کانفرنس کیلئے اسلام آباد سفر کو لے کر پرامیدہیں۔ڈان کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان کافی کشیدگی ہے، لیکن عمل آوری کے سطح پر رابطہ کر رہے ہیں۔بمباوالے نے اگرچہ زور دے کر کہا کہ یہ آج کی صورتحال ہے اور انہیں نہیں معلوم کہ آنے والے دنوں میں حالات کیسے ہوں گے۔بمباوالے نے پیر کو کراچی میں ایک پروگرام میں کہاکہ میں مستقبل کے بارے میں نہیں بتا سکتا، لیکن آج پی ایم مودی نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والے سارک کانفرنس میں حصہ لینے کو لے کرپرامیدہیں۔سینئر حکام نے بتایا کہ فی الحال وزیر اعظم کے دورے کو لے کر کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے، خاص طور جموں کشمیر کے حالات کو لے کر پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے۔بمباوالے نے کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ قراردیتے ہوئے پاکستان پر نشانہ لگایا اور کہا کہ جن کے اپنے گھر شیشے کے ہوں انہیں دوسروں کے گھروں پر پتھر نہیں پھینکنے چاہئیں۔کشمیر مسئلہ اور حال میں بلوچستان پر وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان پر پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بمباوالے نے کہا کہ بھارت اور پاکستان دونوں کے اندر اندرکے مسائل ہیں۔انہوں نے پاکستان پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ جن کے اپنے گھر شیشے کے ہوں انہیں دوسروں کے گھروں پر پتھر نہیں پھینکنے چاہئیں۔کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بھارت اور پاکستان دونوں میں مسائل ہیں اور آپ کو دوسرے ممالک کے مسائل میں جھانکنے کی بجائے اپنے مسائل کو حل کرنے پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے۔مودی کے بیان کے بارے میں سفارت کار نے کہاکہ وزیر اعظم نے 15اگست کے اپنے یومِ آزادی خطاب میں صرف ان کو حاصل ہوئے خطوط کا ذکر کیا تھا۔بمباوالے پیر کوکراچی کونسل آن فارن ریلیشنزکی طرف سے منعقد بات چیت سیشن میں بول رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ بھارت حکومت کہتی رہی ہے،ہمیں دہشت گردی کے جڑ سے ناکامیوں کیلئے مل کر کام کرنا چاہئے جو نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت اور دنیا کیلئے بھی سرمیں دردہے۔بمباوالے نے کہا کہ دونوں ممالک کو محض ایک مسئلہ پر نہیں، بلکہ تمام مسائل پر بات کرنی چاہئے۔گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں بھارتی اور پاکستانی سرحد ی فورسز کے درمیان’’دوستانہ‘‘بحثیں ہوئی ہیں۔سارک کی بھی بہت میٹنگ ہوئی ہیں۔بمباوالے نے پاکستان اور بھارت کے درمیان وسیع کاروبار کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ سیاسی مسائل کے حل میں وقت لگے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو بھارت کے لیے بھی سب سے زیادہ ترجیحی والے ملک کادرجہ دیناچاہئے۔بمباوالے نے کہاکہ تجارتی میلوں میں مزید شرکت ہونی چاہئے اور زیادہ پاکستانیو ں کو بھارت کا دورہ کرناچاہئے۔ انہوں نے کہاکہ کوئی اختیار نہیں ہے، لیکن یہ قدم بہ قدم کیاجاناچاہئے۔بھارتی سفارت کار نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر کی راہ پرتجارت اور کاروبار سے ہوکر گزر جاتا ہے۔


Share: